آن لائن ارننگ
دنیا میں آن لائن پیسے کمانے کے بہت سے ذرائع ہیں جن میں سے ای کامرس، بلاگنگ اور فری لانسنگ سر فہرست ہیں۔ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں آن لائن ارننگ میں چوتھے نمبر پر تھا۔اس کا مطلب ہے پاکستان میں جہاں غربت، بے روزگاری، مہنگا ئی اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اگر وہاں نوجوانوں کو سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوںمیں ایک پیریڈ روزانہ کی بنیاد پر آن لائن ارننگ کے لئے کوئی سکل سکھائی جائے تو پاکستان سے غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔اس کے لئے ایک قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ۔پاکستان میں بہت سے پلیٹ فارمز اپنے تئیں اس حوالے سےنوجوان نسل کو مختلف آن لائن سکلز سکھا رہے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن نہ ہونے کے برابر ہے۔پچھلی حکومت نے بھی اس پر کچھ کام کیا لیکن یہ گراس روٹ لیول سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
ای کامرس سے مراد آن لائن کاروبار ہے۔ایک وقت تھا جب لوگ دوردارز علاقوں میں اپنا سامان تجارتی منڈیوں میں لے کے جاتے تھے۔پھر وقت کی گردش نے انقلاب برپا کیا اور یہی تجارت گاڑیوں اور جہازوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔زمانے کی جدت نے اس تجارت کو گھر بیٹھ کر کرنے کو ای کامرس کا نام دیا۔آج کے اس جدید دور میں گھر بیٹھے بجلی ، ٹیلی فون ،انٹرنیٹ کا بل آپ اپنے موبائل کے ذریعے کر سکتے ہیں اور کوئی بھی چیز گھر بیٹھ کر منگوا سکتے ہیں اور بذریعہ موبائل ادائیگی کر سکتے ہیں۔
کسی بھی عنوان پر آرٹیکل لکھنے کوبلاگنگ کہتے ہیں۔جو کوئی بھی لکھنےمیں مہارت رکھتا ہو اپنے پسندیدہ عنوان پر لکھ سکتا ہے اور پیسے کما سکتا ہے۔فیشن، ٹیکنالوجی اور فوڈ جیسے عنوانات ٹاپ ٹرینڈ عنوانات سمجھے جاتے ہیں۔ایسے عنوانات پر لکھنے والوں کے بلاگ جلدی گوگل میں رینک کر جاتے ہیں اور وہ لوگ اس طرح گھر بیٹھ کر پیسے کماتے ہیں۔
گھر میں بیٹھ کر کسی فرد یا کمپنی کے لیے آن لائن کام کرنے کو فری لانسنگ کہتے ہیں۔بہت سی سکلز ہیں جن کو سیکھ کر ان کو آن لائن بیچا جا سکتا ہے۔اپنی خدمات گھر میں بیٹھ کر دنیا میں کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص یا کمپنی کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔اپ ورک، فائیور اور بے شمار ایسے پلیٹ فارمز ہیں جن پر فری لانسرز اپنے آپ کو رجسٹر کرواتے ہیں جہاں پر جس شخص یا کمپنی کو جس کام کی ضرورت ہوتی ہے ان کی پروفائل دیکھ کے ان کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور آن لائن ادائیگی کی جاتی ہے۔
پاکستان میں معاشی بحران کے خاتمے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کی ضرورت ہے۔گراس روٹ لیول پر طلباء کوآن لائن سکلز سکھانے کی ضرورت ہے۔تعلیمی اداروں میں جہاں تعلیم و تربیت سے آبیاری کی جارہی ہے وہیں چھوٹی چھوٹی سکلز سکھانے کی بھی ضرورت ہے جس سے ہر طالب علم خود کفیل ہو سکتا ہے۔اپنے غریب ماں باپ کا سہارا بن سکتا ہے اور غربت سے چھٹکارہ پا سکتا ہے۔اس کے لئے قومی سطح پر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ان تجاویز کو اگر اپنا لیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نظر آئے گا۔
Comments
Post a Comment