فیس بک فراڈ سے بچیں
فیس بک فراڈ سے بچیں
فراڈیوں سے ہوشیار رہیں۔پاکستان میں فراڈ کے بہت سے طریقے اپنائے جاتے ہیں۔جن میں سے ایک طریقہ فیس بک کے
ذریعے دھوکہ دہی ہے۔پاکستان میں لوگ بے روزگاری، مہنگائی، لاقانونیت کی وجہ سے بے حال ہیں۔غربت کو کم کرنے کے
لیے مختلف طریقوں سے لوگوں سے پیسے ہتھیاتے ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔کبھی کسی موٹر سائیکل والے کو
لوٹ کر،کبھی گاڑی چوری کر کے،کبھی دن دیہاڑے بنک لوٹ کر،کبھی کسی گھر سے زیور اور نقدی لے جا کر،کبھی کسی کا قتل
کر کے۔ہر فراڈیے کا اپنا طریقہ واردات ہے۔پاکستان میں ایسے لٹیروں کے سامنے قانون بے بس دکھائی دیتا ہے یا قانون کے
رکھوالوں کی ملی بھگت سے سادہ لوح عوام کو لوٹا جاتا ہے۔اگر ایسے مکروہ چہرے بے نقاب ہو بھی جائیں تو قانون کے شکنجے سے
چند دنوں کے بعد رشوت اور طاقت کے زور سے جان چھڑا لیتے ہیں۔
آج کل فیس بک پر میسینجر کے ذریعے آپ سے رابطہ کیا جاتا ہے۔اس اکاونٹ پر آپ کے کسی دوست یا فیس بک فرینڈ کی
تصویر لگی ہوتی ہے جس سے آپ سمجھتے ہیں کوئی آپ کا دوست آپ سے رابطہ کر رہا ہے۔حالانکہ وہ کوئی اس معاشرے کا مکروہ
چہرہ ہوتا ہے جس نے آپ کے فیس بک فرینڈ لسٹ سے کسی آپ کے دوست کی تصویر اٹھا کے اپنا اکاونٹ بنا کے آپ کو میسج کیا
ہوتا ہے۔آپ کو میسج آئے گا سلام دعا کے بعد آپ سے وٹس ایپ نمبر مانگا جائے گا۔آپ اپنا دوست سمجھ کے وٹس ایپ نمبر
دے دیں گے۔
آپ کو جونہی وٹس ایپ پہ اس مکروہ چہرے کی طرف سے سلام ہو گا۔اور آپ کی خیر خیریت پوچھنے کے بعد دعا دی جائے گی
جس سے وہ آپ کے ساتھ خلوص کا اظہار کر رہا ہو گا۔آپ اس کی پر خلوص دعا سمجھ کر اس سے یہ بھی بھول جائیں گے کہ اس
کا نام ہی پوچھ لیا جائے۔اسی اثنا میں اُس کا میسج آئے گا۔میرا دوست ہسپتال میں داخل ہے اسے پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔
آپ مہربانی کر کے جیز کیش کر دیں۔اگر تو آپ نے فوراََ پیسے بھیج دیئے تو آپ کے ساتھ فراڈ ہو گیا لیکن اگر آپ کے ہوش و
حواس قائم رہے تو آپ اس معاشرے کے ذہین ترین انسان ہیں۔
اس لیے جب بھی کوئی پیسے مانگے کنفرم کر لیں آپ کے ساتھ فراڈ تو نہیں ہورہا۔فراڈیوں سے بچیئے۔یہ کہانی ایک شخص کی
زبانی بیان کی گئی ہے جو فراڈ سے بچ گیا۔اور بیان کرنے کا مقصد اور لوگوں کو ایسے فراڈ سے بچانا ہے۔
Comments
Post a Comment